امریکہ نے ستمبر میں دوچینی سفارت کاروں کو خفیہ طور پر ملک بدر کردیا تھا۔ان پر الزام تھا کہ چینی سفارت خانے کے یہ دونوں اہلکار ورجینیا میں واقع ایک حساس فوجی اڈے پر جا پہنچے تھے۔
اخبار نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا ہے کہ گذشتہ تیس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے دو چینی سفارت کاروں کو جاسوسی کے الزام میں بے دخل کر کے واپس بھیجا ہے۔ان میں ایک سفارت کار کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انٹیلی جنس افسر تھا اور سفارت کار کے روپ میں کام کررہا تھا۔
نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ یہ دونوں چینی سفارت کار اپنی بیویوں کے ہمراہ کار چلاتے ہوئے ریاست ورجینیا میں واقع ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پر جا پہنچے تھے۔ یہ نورفولک کے نزدیک واقع ایک حساس تنصیب کے داخلی دروازے پر قائم تھی۔اس حساس جگہ پر امریکہ کی خصوصی آپریشن فورسز کے دفاتر اور اڈا واقع ہے۔چیک پوائنٹ پر متعیّن محافظوں نے چینی سفارت کاروں کے کاغذات دیکھے تو ان کے پاس داخلے کا اجازت نامہ نہیں تھاجس پر محافظوں نے انھیں وہاں نصب ’گوتھرو گیٹس‘ سے گذرنے کی ہدایت کی۔ لیکن وہ واپس مڑے اورچل دیے۔ پھر یہ چینی سفارت کار فوجیوں سے بچاؤ کی کوشش کرتے ہوئےفوجی اڈے کی جانب بڑھتے رہے جس پر انھیں راستے میں فائر ٹرک کھڑا کرکے روک لیا گیا تھا۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق چینی سفارت کاروں نے بعد میں بتایا کہ وہ محافظوں کی ہدایات کو سمجھ نہیں سکے اور اسی لیے وہ آگے بڑھتے رہے تھے۔ جبکہ امریکہ نےاس پر یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے یہ اقدام چین کی جانب سے امریکی سفارت کاروں کی نقل وحرکت پر عاید کردہ پابندی کے ردعمل میں کیا تھا۔
