اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوتا ہے۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی اورجسٹس سیٹھ وقار نے چار سطروں پر مشتمل مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ تین رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت کی جب کہ ایک جج نذر محمد اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں اور تیس دن کے اندر اندردائر کی جا سکتی ہے جب کہ اپیل دائر کرنے کے لیے پرویز مشرف کا موجود ہونا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ نومبر 2013 میں درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر 2007ء کو ملک کا آئین معطل کر کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔
