امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ترجمان مورگن آرٹیگس نے کہا ہے کہ امریکہ کی بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ سے متعلق حالات پر گہری نظر ہے ۔ ہم تمام تر پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ مذہبی آزادی اوریکساں سلوک جمہوریت کے بنیادی اصول ہیں اس لیے بھارت آئین اور جمہوری اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور مظاہرین کے پُرامن احتجاج کے حق کا تحفظ اور احترام کیا جائے ۔ بھارتی مظاہرین سے بھی تشدد سے دور رہنے کی درخواست کی ہے۔
شہریت کے متنازع قانون کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں مظاہرے جاری ہیں جب کہ پولیس کی جانب کریک ڈاؤن اور دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ پر تشدد کے بعد صورتحال تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ چند دن پہلے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔
دوسری جانب متنازع شہریت بل کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے جب کہ امریکہ سمیت دنیا بھر سے اس کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔امریکہ ،برطانیہ اور فرانس سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو بھارت کے سفر کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے
