بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف صورت حال روزبروز خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے اور رائے عامہ مودی کے خلاف جا رہی ہے۔ اب مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دے دی ہے۔
متنازع قانون کے خلاف بھارت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں جن میں اب تک 30 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 7 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ مظاہروں میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سراپا احتجاج ہیں۔
شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہروں میں شریک افراد مودی کے خلاف ایسے پوسٹر لے کراحتجاج کر رہے ہیں جن میں انہیں جرمنی کے لیڈر ہٹلر سے تشبیہ دی گئی ہے۔پوسٹرز میں ہٹلر نے مودی کو گود میں لیا ہوا ہے ۔ احتجاج میں اٹھایا گیا یہ پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ پوسٹر بھارتی وزیر اعظم کی مسلم دشمن پالیسیوں کا عکاس بن کر ابھرا ہے۔اس پوسٹر سے متعلق روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ جرمن ٹی وی نے بھی مظاہرین کی یہ تصویر نشر کی ہے جس میں ننھے مودی کو ہٹلر نے اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کا ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اپنی پالیسیوں سے مودی نے عالمی سطح پر اپنا امیج انتہائی داغ دار کر لیا ہے۔
