وائٹ ہاؤس میں امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے ۔ وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سمیت اعلیٰ حکام وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔ امریکی صدر کو حملوں سے متعلق آگاہ کر دیا گیا۔صدر ٹرمپ اجلاس کے بعد امریکی فوفی آٹھکانوں پر ایرانی حملے کے حوالے بیان جاری کریں گے
خیال رہے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران کی جانب سے بغداد میں عین الاسد اور اربیل امریکی ہوائی اڈوں پر راکٹ حملے کیے گئے۔سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے آپریشنز ہیڈ کوارٹر آکر کارروائی کی سربراہی کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی ایئربیس پر 30 میزائل داغے گئے۔
پنٹاگون نے عراق میں امریکی فوج کے اڈے پر حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 5 بجے ایران سے کیا گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میزائل حملوں کے بعد پیغام میں کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ امریکی فوج سب سے طاقتور ہے۔ وہ آج شام بیان جاری کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے عراق کو امور خود چلانے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں،لیکن عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے لیے یہ وقت موزوں نہیں۔ ایران پر حملے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایران کے ثقافتی مقامات پر حملے نہیں کریں گے۔
