Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

ہمیں گیس چیمبروں کی ضرورت نہیں، ہم انسانوں کو سینکنے کےلیے گھروں کو تندوروں میں بدل دیتے ہیں‘

متنازع شہریت بل کے خلاف ہونے والےاحتجاج کوجبراً روکنے کے لیے اورنئی دہلی میں مسلم کش فسادات کے دوران مسلمانوں پر ہوئے مظالم پر بھارتی میڈیا بھی بول پڑا۔ایک بھارتی اخبار نے دلی فسادات کے حوالے سے دل دہلا دینے والی رپورٹ شائع کی جس میں انتہا پسندوں کے مسلمانوں پر بہیمانہ حملوں کے طریقوں کو نازی جرمنی سے بھی بد تر اورجدید قرار دے دیا گیا۔

مودی حکومت اور بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے رپورٹ میں لکھا گیا کہ  2020 میں ہندوستانی نازی جرمنوں کے مقابلے میں جدید ہو رہے ہیں۔ ہمیں گیس چیمبروں کی ضرورت نہیں ہے، ہم انسانوں کو سینکنے کے لیے گھروں کو تندوروں میں بدل دیتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت کے نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین نے دلی فسادات کے دوران پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا  کہ بھارت جیسے سیکولر ملک میں لوگوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا، دارالحکومت دہلی میں پولیس کی ناکامی باعث تشویش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ پولیس ناکارہ ہے یا تشدد سے نمٹنے کے لیے حکومتی کوششوں کا فقدان ہے۔

جب کہ ایک بھارتی طالبہ نے بھی بتایا کہ نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کے لیے پولیس نے بیرون شہر سے لوگ بلائے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس حملہ آوروں کی مدد کرتی رہی۔بھارتی طالبہ کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کو نئی دہلی کے راستے بھی معلوم نہیں تھے، پولیس انہیں راستے بتا رہی تھی۔ طالبہ کا کہنا تھا کہ اگر پولیس چاہتی تو مظاہروں کو چند گھنٹوں میں ہی ختم کر سکتی تھی لیکن گجرات کی طرح نئی دہلی میں بھی غنڈوؤں کو تین روز دیئے گئے۔

یاد رہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں شہریت کے نئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر انتہاپسند ہندؤں کے حملوں میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

seventeen + 3 =

Contact Us