یورپ میں مہاجرین کے ایک نئے بحران کا خدشہ ہے۔آسٹریا کے چانسلر سباستیان کُرس نے لزام عائد کیا ہے کہ ترکی اپنی سرحدوں کو مہاجرین کے لیے کھول کر یورپی یونین کو بلیک میل کر رہا ہے اور وہ اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے بھی ترکی کے اس اقدام کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا ۔ یورپی یونین کے مہاجرین کے امور کے کمشنر مارگاریٹس شناس نے کہا کہ کوئی بھی ’’یورپی یونین کو بلیک میل یا دھمکا نہیں سکتا۔‘‘
واضح رہے کہ رجب طیب ایردوآن نے شام کے شہر ادلب میں شامی افواج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران یہ اقدام کیا، جس کے بعد انقرہ اور برسلز کے درمیان پناہ گزینوں کے تنازعے میں مزید شدت پیدا ہوئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے صورتحال مزید بگڑنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری کارروائی کے ذریعے ایک نئے انسانی بحران کو روکا جائے۔
یورپی یونین میں داخلے کے خواہش مند ہزارہا تارکین وطن یونانی سرحدی علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔ لاکھوں تارکین وطن میں سے ہزارہا غیر ملکیوں نے اس سفر کا آغاز ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اُس اعلان کے بعد کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انقرہ حکومت اب ترکی میں مقیم ان تارکین وطن کو روکنے کی مزید کوشش نہیں کرے گی۔۔
