بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کیے جانے والے متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کوبھارتی حکومت کی ہلاشیری سے پولیس اور بی جے پی کے غنڈے مل کر جس قسم کے تشدد اور ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں اس کے خلاف نہ صرف بھارت کے اندر سے بلکہ باہر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ ترکی، پاکستان اور انڈونیشیا کے بعد ایران ایسا چوتھا مسلم ملک ہے جس نے بھارتی دارالحکومت دہلی میں ہونے والے فسادات کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھارتی ظلم کے خلاف اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’’ایران بھارتی مسلمانوں کے خلاف تشدد کی منظم لہر کی مذمت کرتا ہے۔ ایران صدیوں سے بھارت کا دوست رہا ہے۔ ہم بھارتی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھارت کے تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بے حس شرپسند عناصر کو غالب نہ آنے دیں۔ مستقبل کا راستہ پرامن بات چیت اور اور قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرنے میں ہے۔‘‘
واضح رہے کہ بھارت نے ایران کے اس بیان پر ابھی تک کوئی رد عمل نہیں دیا ہے لیکن ماضی میں اس مسئلے پر جب بھی کسی بیرونی ملک کی جانب سے نکتہ چینی کی گئی تو بھارت نے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ امریکی پابندیوں کے دباؤ کے پیش نظر بھارت نے ایران سے تیل خریدنا بند کر دیا ہے لیکن ایرانی بندرگارہ چابہار پر بھارت کے تعاون سے بدستورکام جاری ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل انڈونیشیا نے جکارتہ میں بھارتی سفارت کار کو بلا کر فسادات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا اور وزارت مذہبی امور نے بھی اپنے سخت بیان میں ”مسلمانوں کے خلاف تشدد کی مذمت کی تھی۔‘‘گذشتہ ہفتے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی دہلی کے فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت میں ”ملک گير سطح پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔‘‘پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھی دہلی کے فسادات کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے بھارتی مسلمان انتہا پسندی کی طرف مائل ہوں گے جس کے علاقائی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
