واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت نے عراق میں تعینات ایک امریکی فوجی خاتون مترجم پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے روابط رکھنے والے افراد کو ایسی معلومات فراہم کیں جن میں امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے عراقی مُخبروں کے نام بھی شامل تھے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ 29 دسمبر کو ایران کی حلیف عراقی ملیشیاؤں کے مراکز پر امریکی لڑاکا طیاروں کے حملوں کے ایک روز بعد مریم نے کمپیوٹر میں امریکی فوج کی خصوصی فائلوں میں گھسنا شروع کر دیا۔ ان فائلوں میں امریکی فوج کے ذرائع کی شناخت کے علاوہ ان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات بھی شامل تھیں۔
بدھ کے روز جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی 61 سالہ خاتون مریم طہ تھامسن نے دسمبر کے وسط میں عراق کے شہر اربیل میں امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ بطور مترجم کام کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ مریم کا سیکورٹی پرمٹ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔
رواں سال 27 فروری کو مریم کو حراست میں لیے جانے کے بعد اس نے تحقیق کاروں کے سامنے ایک لبنانی شہری کو مُخبروں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کر لیا۔ اس کے علاوہ مریم نے حزب اللہ ملیشیا سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کے ایک مقصد کے حوالے سے بھی متنبہ کیا۔
امریکی وزارت انصاف کے مطابق مذکورہ لبنانی شہری لبنانی حکومت کے ایک ذمے دار سے روابط رکھتا ہے اور اس کے حزب اللہ کے ساتھ واضح تعلقات ہیں
