ری پبلیکن پارٹی کی طرف سے متوقع صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ میں پرائمری صدارتی انتخابات خونی معرکے میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ جو بائیڈن نے میری لینڈ فنڈ ریزنگ مہم کے دوران ڈیموکریٹک امیدوار بیرنی سینڈرز کی طرف سے کہے گئے تنقیدی جملوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی پارٹی کو توڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے کا موقع دے سکتے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب کی بار پرائمری انتخابات میں خون کی ندیاں بہہ سکتی ہیں۔
خیال رہے کہ دونوں صدارتی امیدوار برنی سینڈرز اور جوبائیڈن منگل کے روز ایدھاو، مسی سیپی، میزوری، واشنگٹن، نارتھ ڈاکوٹا اور مشی گن میں انتخابی معرکے میں مد مقابل ہوں گے تاہم مشن گن میں جوبائیڈن کی کامیابی برنی سینڈرز کی امیدوں پرپانی پھیرسکتی ہے۔ اور برنی سینڈرز نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کےاہم حریف ہوسکتے ہیں۔ 29 فروری کو ساؤتھ کیرولائنا میں جوبائیڈن کی کامیابی ڈیموکریٹک پارٹی کے اعتدال پسند بازو کو اگلے مراحل میں کامیابی کا اہم موقع فراہم کرسکتی ہے۔ کل ہفتے کو جوبائیڈن نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں میزوری ریاست میں 60 مزید ارکان کانگرس کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ کی چھ ریاستوں میں سے صرف میزوری ایک ایسی ریاست ہے جہاں منگل کے روز انتخابات ہوں گے۔
