یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا ہے کہ راس عیسی بندرگاہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر لنگر انداز تیل بردار جہاز “صافر” سے تیل کے رساؤ یا جہاز میں دھماکے کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا ماحولیاتی المیہ جنم لے سکتا ہے۔انہوں نے اتوار کی شام جاری ایک بیان میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کو تیل بردار جہاز “صافر” کے معائنے اور اس کی مرمت سے مسلسل روکا ہوا ہے۔ جہاز پر دس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل لدا ہوا ہے۔
یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی کے مطابق تکنیکی رپورٹوں میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تیل بردار جہاز کے زنگ سے گل جانے پر رساؤ کی صورت میں 13.8 کروڑ لیٹر تیل بحیرہ احمر کے پانی میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ 1989 میں الاسکا میں تیل کے رساؤ کے سبب جنم لینے والے ماحولیاتی المیے سے چار گُنا زیادہ سنگین ہو گا۔ واضح رہے کہ 30 برس کے قریب گزر جانے کے بعد بھی وہ علاقہ پوری طرح ماحولیاتی اثرات سے پاک نہیں ہو سکا۔
یمنی وزیر اطلاعات نے توقع ظاہر کی ہے کہ تیل بردار جہاز میں آگ لگنے کی صورت میں ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ 5 لاکھ افراد اور ان کے گھرانوں کے 17 لاکھ افراد سمیت لگ بھگ 30 لاکھ افراد زہریلی گیسوں سے متاثر ہوں گے۔ اسی طرح الحدیدہ میں انسانی امداد کے شعبے میں کام کرنے والی 58 تنظیمیں اپنا کام روک دیں گی۔ جس سے 70 لاکھ ضرورت مند افراد ان خدمات سے محروم ہو جائیں گے۔
الاریانی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ماحولیاتی آفت کے خطرے سے بچاؤ کے لیے مؤثر طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ اس لیے کہ مذکورہ المیے کے نقصانات یمن کے ساحلوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالے تا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین پر مشتمل فنی ٹیم تیل بردار جہاز صافر کا رخ کرے۔ گذشتہ پانچ برسوں سے اس جہاز کی معمول کی دیکھ بھال نہیں ہوئی ہے۔تیل بردار جہاز “صافر” نے مارچ 2015 سے کام روک دیا تھا۔ اس پر 11 لاکھ بیرل تیل لدا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ الحدیدہ شہر میں راس عیسیٰ کی بندرگاہ پر حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔
