Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

دنیا ایک بہت بڑے ماحولیاتی المیے سے دوچارہو سکتی ہے :یمن

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا ہے کہ راس عیسی بندرگاہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر لنگر انداز تیل بردار جہاز “صافر” سے تیل کے رساؤ یا جہاز میں دھماکے کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا ماحولیاتی المیہ جنم لے سکتا ہے۔انہوں نے اتوار کی شام جاری ایک بیان میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کو تیل بردار جہاز “صافر” کے معائنے اور اس کی مرمت سے مسلسل روکا ہوا ہے۔ جہاز پر دس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل لدا ہوا ہے۔

یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی کے مطابق تکنیکی رپورٹوں میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تیل بردار جہاز کے زنگ سے گل جانے پر رساؤ کی صورت میں 13.8 کروڑ لیٹر تیل بحیرہ احمر کے پانی میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ 1989 میں الاسکا میں تیل کے رساؤ کے سبب جنم لینے والے ماحولیاتی المیے سے چار گُنا زیادہ سنگین ہو گا۔ واضح رہے کہ 30 برس کے قریب گزر جانے کے بعد بھی وہ علاقہ پوری طرح ماحولیاتی اثرات سے پاک نہیں ہو سکا۔

یمنی وزیر اطلاعات نے توقع ظاہر کی ہے کہ تیل بردار جہاز میں آگ لگنے کی صورت میں ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ 5 لاکھ افراد اور ان کے گھرانوں کے 17 لاکھ افراد سمیت لگ بھگ 30 لاکھ افراد زہریلی گیسوں سے متاثر ہوں گے۔ اسی طرح الحدیدہ میں انسانی امداد کے شعبے میں کام کرنے والی 58 تنظیمیں اپنا کام روک دیں گی۔ جس سے 70 لاکھ ضرورت مند افراد ان خدمات سے محروم ہو جائیں گے۔

الاریانی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ماحولیاتی آفت کے خطرے سے بچاؤ کے لیے مؤثر طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ اس لیے کہ مذکورہ المیے کے نقصانات یمن کے ساحلوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالے تا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین پر مشتمل فنی ٹیم تیل بردار جہاز صافر کا رخ کرے۔ گذشتہ پانچ برسوں سے اس جہاز کی معمول کی دیکھ بھال نہیں ہوئی ہے۔تیل بردار جہاز “صافر” نے مارچ 2015 سے کام روک دیا تھا۔ اس پر 11 لاکھ بیرل تیل لدا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ الحدیدہ شہر میں راس عیسیٰ کی بندرگاہ پر حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

18 − sixteen =

Contact Us