چین نے بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہواوے کو بھارت میں کاروبار کرنے سے روکا گیا تو چین میں بھارتی کمپنیوں کو بند کردیا جائے گا اور اس کے اثرات دونوں ممالک کے درمیان معاشی معاہدوں پر بھی پڑیں گے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت میں فائیو جی سیلولر نیٹ ورک شروع ہونےجا رہاہے جس کے لیے بھارت نے کئی مقامی و غیر ملکی کمپنیوں کو پلیٹ فارم مہیا کیا ہے- تاہم ابھی تک بھارت نے چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کو نہ صرف مدعو نہیں کیا بلکہ ہواوے کی پیشکش کا جواب بھی نہیں دیا ۔
واضح رہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ کی ہائی فریکوئنسی اور تیز ترین رفتار رکھنے والی ’فائیو جی‘ ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں سب سے پہلے استعمال کرنے والا ملک جنوبی کوریا ہے اور اب بھارت بھی اس ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھ رہا ہے
