ایک سینئر سفارت کار نے کہا ہےکہ روس ،امریکی “اشتعال انگیزی” کاشکار نہیں ہوگا حالانکہ اسے “مہنگے اسلحے کی دوڑ میں” گھسیٹا جارہا ہے ۔یادرہے کہ اس سے قبل واشنگٹن نے کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا جس پر حال ہی میں منسوخ ہونے والےآئی این ایف معاہدے کے تحت پابندی عائد کردی گئی تھی اس معاہدے میں 500 کلومیٹر سے 5،500 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے والے تمام زمینی میزائلوں کے ساتھ ساتھ ان کے لانچروں کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا تھا ۔
واشنگٹن نے روس کی طرف سے مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے رواں ماہ کے شروع میں اس معاہدے سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کرلی تھی ، اور ماسکو نےبھی اس کی پیروی کی تھی
روس کے نائب وزیر خارجہ سرگی ریابکوف نے کہا ہےکہ پینٹاگون کا حالیہ کروز میزائل تجربہ افسوسناک ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے واضح طور پر فوجی تناؤ کو بھڑکانے کی راہ اپنائی ہے۔
