امریکہ کی جانب سے چینی توانائی کی ایک بڑی کمپنی کی بلیک لسٹنگ کے بعد ، بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ توانائی کی تجارت اور ترقی کے لئے واشنگٹن پر انحصار نہیں کر رہے ہیں۔
گذشتہ ماہ امریکہ نے چین کی سب سے اہم سرکاری جوہری بجلی کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کا متنازعہ فیصلہ کیا تھا۔ ریاست ہائے متحدہ کے فیڈرل رجسٹر کے ایک اعلامیے کے مطابق ، چین جنرل نیوکلیئر پاور گروپ (سی جی این) اور اس کی تین ذیلی کمپنیوں کو امریکی محکمہ تجارت کی “موجودات کی فہرست” میں رکھا گیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ سی جی این اب امریکہ سے ٹیکنالوجی کے مختلف اجزا یا مواد حاصل نہیں کر سکے گا جب تک کہ وہ ایسا کرنے کے لئے (انتہائی مشکل سے ہی)لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔
یہ اقدام ان الزامات کے جواب میں سامنے آیا ہے کہ چینی نیوکلیئر پاور کمپنیاں بشمول سی جی این امریکہ کی ٹیکنالوجی چوری کررہی ہیں اور اسے فوجی ضروریات کے لئے غلط طور پراستعمال کررہی ہیں۔ سی جی این چینی جوہری صنعت میں ایک انتہائی اہم قوت ہے ، اس میں نو چلتے ہوئے ایٹمی بجلی گھر ہیں جن میں 28 ری ایکٹر زیادہ تر گوانگ ڈونگ صوبے کے چاروں طرف قائم ہیں۔اس طرح کمپنی کے بلیک لسٹ ہونے پر چینی توانائی کے شعبے کو حقیقی دھچکا لگا ہے۔ ایشیاء ٹائمز کی رپورٹنگ کے مطابق ، امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جدید استعمال کی جانے والی امریکی ٹیکنالوجی اور شہری استعمال کے اجزاء شینزین میں واقع جوہری توانائی کےادارے کو منتقل کیے گئےہیں جو پیپلز لبریشن آرمی کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔
