سعودی عرب کے تیل کے بڑے ذخائر جن میں دنیا کی سب سے بڑی آئل پروسیسنگ سہولت بھی شامل ہے پر ڈرون حملہ کیا گیا۔یہ حملہ خام تیل کی قیمت میں ایک اہم رسک پریمیم کا اضافہ کرسکتا ہے ، کیونکہ اس حملے سے ریاست کی پیداوار آدھی رہ گئی ہے۔
سعودی تیل کے انفراسٹرکچر کے سب سے بڑے شہر ابقائق میں مسلح ڈرونوں نے ایک ریفائنری کو نشانہ بنایا ، جو عالمی توانائی کی فراہمی کے لئے انتہائی اہم ہے اور خریس کےوسیع و عریض تیل کے میدان میں بھی ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے اس حملے سے ریاست کی پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچاہے جس سے روزانہ 5 لاکھ بیرل خام پروسیسنگ متاثر ہوئی۔
