روسی نائب وزیر خزانہ سیرگی اسٹورچاک کے مطابق ، کاراکاس نے روبل کا استعمال کرتے ہوئے اپنے تازہ ترین طے شدہ قرض کی ادائیگی ماسکو منتقل کردی ہے۔
عہدیدار نے منگل کو روسی آر بی سی کو بتایا کہ روس اپنے تمام قرضداروں کو روبل میں ادائیگی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وینزویلا نے ماسکو سے 3.15 بلین ڈالر کے قرض کی ادائیگی کی منتقلی کی ہے ، لیکن ادا کی گئی کرنسی اور رقم کا انکشاف نہیں کیا گیا۔
وینزویلا کی حکومت کو واشنگٹن کی طرف سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں اس کے تیل کے شعبے پر پابندیاں بھی شامل ہیں جو ملک کے محصولات کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ چونکہ ملک کا مرکزی بینک بھی امریکی ہٹ لسٹ میں شامل تھا ، لہٰذاریگولیٹر کے لئے ادائیگی کو امریکی ڈالر میں منتقل کرنا تقریبا ناممکن ہوگیا تھا۔
ابتدائی طور پر کاراکاس نے روس کو لگ بھگ سوملین ڈالرکی ادائیگی کی تھی اور توقع کی جاتی تھی کہ آئندہ موسم خزاں میں مزید 200 ملین ڈالر کی منتقلی کی جائے گی۔ اس وقت ، یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ وینزویلا تیل یا سونے کی ادائیگی سمیت بارٹر کا استعمال بھی کرسکتا ہے۔
