جمعرات, مئی 2 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

ایٹمی جنگ کےخدشے کے سائے تلےپاکستان کا کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ امن کی جانب ایک اہم سنگ میل

بلا شبہ یہ ایک تاریخی اور یاد گار واقعہ ہوگا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کا کوئی قابلِ عمل معاہدہ اور رابطہ اس سے قبل عملی شکل میں طے نہیں پایا ۔ شیڈول کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان9 نومبر کو بابا گُرو نانک کے 550 ویں یومِ پیدایش کے موقعے پر کرتار پور راہ داری کا افتتاح کریں گے جس کے تمام انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے حکومت پاکستان نے سکھوں کے مذہبی پیشوا بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر یادگاری سکہ بھی جاری کیا ۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ یادگاری سکے کے ایک رخ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور قومی نشان کندہ ہے جبکہ دوسرے رخ پر سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ کی تصویر ہے، ساتھ ہی گرو نانک دیو جی 1469-2019 کے الفاظ درج ہیں۔  

کرتار پورراہ داری معاہدے اور منصوبے کے انتہائی دُو ر رس اور ہمہ جہت نتائج یقیناً سامنے آئیں گے البتہ اس حوالے سے کچھ خدشات بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور رہیں گے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، بالخصوص بھارت کے جارحانہ عزائم اور خطّے میں بالادستی قائم کرنےکی ہمیشہ سے جوایک خواہش رہی ہے اور جسے پورا کرنے کے لیے وہ اپنے پڑوسی ملکوں کو اپنا دستِ نگر رکھنے اور علاقے کی تھانے داری حاصل کرنے کے مواقع کی تلا ش ہی میں نہیں رہتا بلکہ خطر ناک نوعیت کی حد تک مواقع بھی پیدا کرلیتا ہے، تویہاں یہ بات انتہائی اہم اور قابلِ ذکر ہے کہ کرتار پور را ہ داری کا معاہدہ اور افتتاح ایک ایسے موقعے پر ہو رہا ہے کہ جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کی انتہا پر ہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہیں، لیکن اسلام آباد اور نئی دہلی میں دونوں ممالک کےہائی کمشنرز موجود نہیں۔ اِنہیں حالات و واقعات میں تناؤ کے باعث واپس بلایا جا چکا ہے اور دونوں ممالک سے ہائی کمشنرزکا ذیلی عملہ سفارتی اُمور انجام دے رہا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ایسی صُورتِ حال بھی پہلی مرتبہ پیدا ہوئی ہے کہ دنوں ممالک کے درمیان ’’پوسٹل سروسز ‘‘بند ہیں۔ اور تین ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کے خطوط، دستاویزات اور پوسٹل سروسز کے ذریعے رابطہ بالکل قائم نہیں۔ یعنی عوامی سطح پر دونوں مُلکوں میں بسنے والے ، دوستوں، عزیزوں اور رشتے داروں کے درمیان یہ سستا، آسان اور موثر رابطہ (تادمِ تحریر)منقطع ہے۔تشویش ناک امر یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں، لیکن پوسٹل سروسز کا نظام کبھی بند نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صُورتِ حال انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ردّ ِ عمل کے طور پر لائن آف کنٹرول پر بھی حالات انتہائی خراب ہیں ،جہاں بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ کے باعث عام شہریوں کی شہادتوں کے واقعات تسلسل سے پیش آرہے ہیں۔رواں سال غیر اعلانیہ جنگ میں آزاد کشمیر کی سر زمین پر بھارتی فضائیہ کا حملہ بھی اپنی نوعیت کاانتہائی اہم واقعہ تھا،لیکن حالات کی اس ابتری میں کر تار پور را ہ داری کا معاہدہ اور پھر افتتاح یقیناً ایک اَن ہونی سی بات لگتی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

one × 1 =

Contact Us