برطانیہ کے شہزادہ چارلس کے پسندیدہ سرکاری مکانات میں سے ایک مکان میں لگی 6 کروڑ 46 لاکھ 79 ہزار 950 ڈالرز مالیت کی پینٹنگز جعلی نکلیں۔ یہ پینٹنگزڈم فریز ہاؤس میں عوامی نمائش کے لیے آویزاں کی گئی تھیں جو کہ’دی پرنس فاؤنڈیشن‘ کا صدر مقام ہے لیکن جعل سازی کا آرٹ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد اِن پینٹنگز کو ہٹا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جعلی آرٹ بنانے کے مقدمے میں 6 ماہ قید کی سزا کاٹنے والے امریکی فنکار ٹونی ٹیٹرو کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر انہوں نے بنائی تھیں اور مسٹر اسٹنٹ کو فروخت کر دیں تھیں۔ٹیٹرو نے مزید بتایا کہ آپ میری بنائی ہوئی تصویروں سے اپنے دوستوں کو متاثر توکر سکتے ہیں لیکن اسکروٹنی کے ماہر اسے کبھی پاس نہیں کریں گے۔
مسٹر ٹیٹروقانونی طور پر ایک ایسے مصور ہیں جو کہ صارفین کے گھروں اور دفاتر کے نجی استعمال کے لیے ماسٹر پیس کی نقل تیار کرتے ہیں۔ اور مسٹر اسٹنٹ نے ان سے 11 شہ پاروں کی نقول حاصل کی تھیں۔ تاہم جعل سازی کے اس اسکینڈل کے حوالے سے اسٹنٹ نے اصرار کیا ہے کہ میرا کوئی سامان جعلی نہیں ہے ۔ دیوالیہ بزنس مین جیمس اسٹنٹ کی طرف سے 17 پینٹنگز پرنس فاؤنڈیشن کوقرض پر دی گئی تھیں
دی میل آن سنڈے کے مطابق وہاں لگی بہت سی پینٹنگز میں سے دو فن پارے جس میں سے ایک 5 کروڑ 43 لاکھ 31 ہزار 158 ڈالر زکی پکاسو کی پینٹنگ تھی جب کہ دوسری 1 کروڑ 55 لاکھ 23 ہزار 188 ڈالرز کی مصور ڈالی کی پینٹنگ تھی، ان دونوں کو بھی جعلی قرار دے دیا گیاہے۔
پرنس فاؤنڈیشن کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈم فریز ہاؤس وقتاً فوقتاً افراد اور دیگر تنظیموں کے قرض پر فن پاروں کو قبول کرتا رہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ان مخصوص پینٹنگز کی صداقت کے حوالے سے شکوک و شبہات سامنے آئے ہیں لہٰذا اب انہیں نمائش سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
