غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بولیویا کے صدر ایو مورالز نے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے ہنگاموں کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ بولیوین صدر کے مستعفی ہونے پر اپوزیشن کے حامیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں بھی دیں
تفصیلات کے مطابق 20 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں صدر ایو مورالز کی جانب سے اپنی فتح کے اعلان کے بعد ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے۔ ان فسادات میں 3 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ملک میں بڑے پیمانے پر پھوٹنے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد بولیویا کے ملٹری چیف جنرل ولیمز نے صدر ایو مورالز سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔جنرل ولیمز کا کہنا تھا کہ داخلی صورت حال کے پیش نظر صدر سے استعفے کے مطالبے کا مقصد ملک میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
یاد رہے کہ ایو مورالز نے بولیویا کے سرکاری نشریاتی ادارے پر قوم سے خطاب کے دوران صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔
صدر کے استعفے پر رد عمل دیتے ہوئےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بولیویا کی کشیدہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ تشدد سے باز رہتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ موجودہ کشیدہ صورت حال کا پرامن حل تلاش کیا جان چاہیے نیز شفاف انتخابات کو بھی یقینی بنایا جائے۔
