جرائم کی عالمی عدالت ، آئی سی سی کے ججز نے گزشتہ روز میانمار میں 2017 میں مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے فوجی کریک ڈاؤن کی تحقیقات کی منظوری دی۔عالمی عدالت کا فیصلہ ارجنٹائن کی جانب سے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے خلاف روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف کارروائی کے آغاز کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
یاد رہے کہ ااقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں بھی میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا مقدمہ چل رہا ہے۔
اس کے علاوہ ساڑھے 7 لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان میانمار افواج کی جانب سے نسل کشی کے خوف کے باعث بنگلا دیش کے مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں۔
خیال رہے کہ2002 میں قائم ہونے والی عالمی جرائم کی عدالت کے پاس دنیا میں ہونے والے بدترین جرائم کی تحقیقات کا اختیار ہے اور انہی اختیارات کے تحت آئی سی سی میانمار میں ہونے والے جرائم کی تحقیقات کرے گی جس میں منظم تشدد، بڑے پیمانے پر انسانوں کی بے دخلی اور عقائد کی بناء پر روہنگیا لوگوں کو ستائے جانے کی تحقیقات شامل ہیں۔
