امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی سے بات کرتے ہوئےجنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ دراصل سعودی عرب کے پاس آہستہ آہستہ پیسے ختم ہورہے ہیں ۔ قومی خزانہ پانچ سو ارب ڈالرز سے کم ہوگیا ہے۔ جنرل پیٹریاس کے مطابق سعودی عرب کا سالانہ( بجٹ ) خسارہ چالیس سے ساٹھ ارب ڈالرتک پہنچ گیا ہے جو کہ وہ خطے میں موجود دیگرممالک میں جاری سرگرمیوں پر خرچ کرتا ہے۔
جنرل پیٹریاس نے مزید کہا کہ سعودی عرب کواس وقت پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے غیرملکی سرمایہ کاری لانے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بغیر سعودی عرب کے ویژن دوہزار تیس سے نتائج کا حصول مشکل ہے۔
انہوں نے کہا ویژن دوہزار تیس سعودی عرب کے ان مختلف اقدامات میں سے ایک ہے جو وہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے کررہا ہے۔
سعودی عرب نے سرکاری طور پر اپنے قومی خزانے اور اثاثوں کی مالیت ظاہر نہیں کی تاہم عالمی انسٹی ٹیوٹ برائے فنانس کااندازہ ہے کہ سعودی عرب کے پاس تین سو ارب ڈالرز کے سرکاری اثاثے ہیں جن میں سے ایک چوتھائی دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں۔
جنرل پیٹریاس کا کہنا تھا کہ متعدد اقدامات ایسے اٹھائے گئے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ ویژن دوہزار تیس توقعات کے مطابق نتائج دے گا ،انہوں نے واضح کیا کہ ہم سب کا مفاد بھی اسی بات میں ہے کہ سعودی عرب میں اصلاحات ہوں اور وہ کامیاب ہو۔
