برطانوی غیر سرکاری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا کو دکھانے سے روکنے کے لیے مودی سرکار نے ایک اور بھونڈی کوشش کی ۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نئی دہلی اور بنگلور میں واقع دفاتر پر چھاپے مارےاور عملے کو ہراساں کیا ۔
بھارتی سی بی آئی کی طرف سے جاری بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل پر غیر ملکی فنڈنگ کا الزام عائد کرتے ہوئےکہا گیا کہ چھاپے وزارت داخلہ کی جانب سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کی شکایت کے بعد مارے گئے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کارروائی میں کوئی مزید شواہد بھی ہاتھ لگے یا نہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ترجمان نے اپنے بیان میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتی رہے گی۔
یاد رہے کہ بھارت کی ہندو انتہا پسند مودی حکومت نے 5 اگست کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو زبردستی بھارتی یونین میں شامل کر لیا تھا۔ بھارت کے اس اقدام کوپاکستان، چین اور ترکی سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں (اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل) نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ حکومت پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس حوالے سے ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری اطورپر روکنے اور کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بھارت نے اپنے اس اقدام کے خلاف کشمیریوں کے مظاہروں سے بچنے کے لیے 5 اگست کو ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا جسے 105 روز ہو چکے ہیں۔
