غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی صدر شی جنگ پنگ نے امریکہ کے ساتھ تجارتی ڈیل پر رضا مندی ظاہر کر تے ہوئے خبردار کیا کہ ہم تجارتی جنگ سے خوفزدہ نہیں ہیں اوراگرضرورت پڑیی تو تجارتی جنگ سے پیچھے بھی نہیں ہٹیں گے۔ ۔
ایک عالمی فورم پر خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ چین امریکہ کے ساتھ معاملات بہتربنانے کے لیےتجارتی جنگ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ ابتدائی طور پر ایک تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں لیکن ہم امریکہ کے ساتھ پہلے مرحلے میں کام کے لیے باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر معاہدہ چاہتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ساتھ قریبی مراسم رکھنے والے ماہرین تجارت کا کہنا ہےکہ چین کے ساتھ پہلے مرحلے کی ڈیل آئندہ سال تک مؤخر کی جاسکتی ہے کیونکہ چین وائٹ ہاؤس سے ایک بڑے ٹیرف کو واپس لینے کا مطالبہ کررہا ہے جب کہ اس کے برعکس واشنگٹن اپنے مطالبات میں اضافے پر غور کررہا ہے۔
اس حوالے سے چائنیز گلوبل انویسٹمنٹ کے بانینے تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ چین اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں تاخیر مسائل کو جنم دے گی۔
رائٹرز کے مطابق امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہےکہ چین نے امریکہ کے بڑے تجارتی مذاکرات کاروں کو بلاواسطہ مذاکرات کی دعوت بھی دی ہے اور بیجنگ کو آئندہ ہفتے تک ان مذاکرات کے ہونے کی امید بھی ہے۔
