Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

تجارتی جنگ میں اضافہ؟ بیجنگ نے آئی ایم ایف کو نشانہ بنایا اور امریکہ نے پاک چین اقتصادی راہ داری کو ہدف بنایا

ایک سینئر امریکی سفارت کار نے پاکستان میں بیجنگ کی معاشی موجودگی پراپنی زبانی تلخی کا اظہار کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ،کرپشن اور قرض کی میراث کے سوا کچھ نہیں لائی۔

چین نے اپنے ردعمل میں کہا کہ آئی ایم ایف کے قرضے بدتر بوجھ تھے۔ امریکہ اور چین اقتصادی اور مالی طور پر باہم مربوط ہوں گے ، لیکن اس سے وہ دوست نہیں بن سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں ابھرتی ہوئی سپر پاور کے خلاف طاقت کی جدوجہد کا ایک بڑا حصہ ہے ، اور اس کی ایک تازہ ترین مثال وہ زبانی لڑائی ہے جو اسی ہفتے پاکستان کے حوالے سے سنی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں ایک سینئر امریکی سفارتکار نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے پر کڑی تنقید کی ہے جو چین کو بحیرہ عرب کے ساتھ براہ راست جوڑنے والے ایک اہم تجارتی راستے میں تبدیل کرنے کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ ایلس ویلز نے ووڈرو ولسن سنٹر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر کے اس منصوبے کو ، جو چین اپنے عظیم بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کا نمونہ سمجھتا ہے ، بدعنوانی سے چھلک پڑا ہے اور پاکستانی عوام کو صرف تکلیف پہنچارہا ہے۔

امریکی سفارت کار نے مزید کہا کہ “نان سی پیک چینی قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ، چین پاکستان کی معیشت پر بڑھتے ہوئے خسارےکا بوجھ اٹھانے والا ہے ، خاص طور پر جب اگلے چار سے چھ سالوں میں زیادہ تر ادائیگی ہونے لگے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “شفافیت کا فقدان” منصوبوں کی لاگت کو بڑھاوا دے گا اور اس کے نتیجے میں قرضوں پر بھی بھاری بوجھ پڑجائے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

5 × 4 =

Contact Us