امریکہ میں ایک نوجوان لڑکی کی جانب سے چین میں مسلمانوں کو ’حراستی مراکز‘ میں رکھے جانے پر بنائی گئی ویڈیوکو سوشل میڈیا پر زبردست پذیرائی ملی ہے۔
فیروزہ عزیز نامی لڑکی ویڈیو کے آغاز میں آنکھوں کے میک اپ کےحوالے سے مشورے دیتی ہیں لیکن اچانک وہ اپنے دیکھنے والوں کو ‘ایک نئے ہالوکاسٹ’ کے حوالے سے آگاہی دینے لگ جاتی ہیں-فیروزہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک انتظامیہ نے اس ویڈیو کی وجہ سے انھیں مزید مواد پوسٹ کرنے سے روک دیا ہے۔ تاہم ٹک ٹاک نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
ٹک ٹاک جو کہ ایک چینی ایپ ہے کےترجمان نے بی بی سی نیوز کو بتایاکہ ’ٹک ٹاک سیاسی پیچیدگیوں کے باعث مواد نہیں ہٹاتا۔‘تاہم اسی ایپ کے چینی ورژن ’ڈوین‘ پر فیروزہ کی یہ پوسٹ نمودار نہیں ہو سکتی کیونکہ اسے سیاسی طور پر سینسر کیا جاتا ہے۔
ٹک ٹاک کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی نے 15 نومبر کو فیروزہ کا ایک پرانا اکاؤنٹ مستقل طور پر اس لیے بند کیا تھا کیونکہ انھوں نے ایک ایسی ویڈیو لگائی تھی جس نے دہشت گردی سے متعلق مواد کے حوالے سے ٹک ٹاک کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔تاہم 25 نومبر کو انھوں نے فیروزہ کا سمارٹ فون بھی بلاک کر دیا لیکن یہ اقدام چین کے حوالے سے ان کی پوسٹس کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا ’ان کے نئے اکاؤنٹ اور اس پر پلکوں والی ویڈیو سمیت دیگر ویڈیوز بالکل بھی متاثر نہیں ہوئیں اور انھیں لوگ اب بھی دیکھ رہے ہیں۔‘
دوسری جانب چینی حکومت نے حراستی کیمپوں کے متعلق کہا ہے کہ ان کیمپس میں دراصل رضا کارانہ طور پر تعلیم اور ٹریننگ دی جاتی ہے حالانکہ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق ثبوت اس کے مخالف ہیں۔
یاد رہے کہ فیروزہ نے اتوار اور پیر کے درمیان چین کے اویغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے تین ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔
پہلی ویڈیو کو ایپ پر 14 لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے اور تقریباً پانچ لاکھ افراد نے لائیک کیا ہے۔اس کی ایک کاپی جسے ٹک ٹاک کے صارفین نے ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے اسے بھی 50 لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔ساتھ ہی یوٹیوبب اور انسٹاگرام پر اس کی مزید کاپیاں پوسٹ کی جا چکی ہیں۔ کچھ افراد نے ان کی پوسٹس پر تنقید بھی کی ہے۔ آسٹریلیا کے سٹریٹیجک پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ایک رکن نے فیروزہ کے ٹک ٹاک کے استعمال کو ’تخلیقی تخریب کاری‘ قرار دیا ہے۔
