Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

چین کی اپنے باشندوں پرگہری نظر ۔ موبائل سروسز کے حصول کے لیے چہرہ سکین کروانے کی شرط

نئے ضوابط جن کا اعلان ستمبر میں کیا گیا تھا اور انھیں اتوار کو نافذ ہونا تھا کے مطابق چین میں اب لوگوں کو نئی موبائل فون سروسز کے حصول کے لیے چہرے کو سکین کروانا لازم ہوگیا ہے ۔ یہ اقدام حکام کی جانب سے ملک کے کروڑوں انٹرنیٹ صارفین کی شناختوں کی تصدیق کے لیے کیا گیا ہے۔

چینی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ’انٹرنیٹ کی دنیا میں شہریوں کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ چاہتی ہے۔چین اس طرح کی ٹیکنالوجیز میں دنیا کا صفِ اول کا ملک ہے ۔ یاد رہے کہ چین میں پہلے ہی اپنی آبادی کے سروے کے لیے چہرہ پہچاننے کی ٹیکنالوجی زیرِ استعمال ہے مگر حکومتی سطح پراس کے ملک بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے گرما گرم بحث کو جنم دیا ہے۔

چین ئے (دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح) موبائل یا موبائل ڈیٹا کنکشن کے حصول کے وقت لوگوں کو قومی شناختی کارڈ دکھانا اور اپنی تصاویر اتروانا لازم کیا ہواہے۔مگر اب انھیں اپنے چہرے بھی سکین کروانے ہوں گے تاکہ ان کی شناختی دستاویزات پر موجود تصاویر سے ان کا موازنہ کیا جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ چین چاہتا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہر شخص اپنے ’حقیقی نام‘ سے ہی انٹرنیٹ استعمال کرے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں چین کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر تحقیق کرنے والے جیفری ڈِنگ کہتے ہیں کہ چین بے نام فون نمبروں اور انٹرنیٹ اکاؤنٹس سے سائبر سیکیورٹی بہتر بنانے اور انٹرنیٹ پر فراڈ کو کم کرنے کے لیے نمٹنا چاہتا ہے۔مگر ان کے مطابق اس کی ایک اور ممکنہ وجہ لوگوں پر بہتر انداز میں نظر رکھنا بھی ہوسکتی ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

four × three =

Contact Us