اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے فضائی درجہ حرارت کے تباہ کن اثرات سے خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اضافہ انسانیت کے لیے خطرہ بن چکا ہے اورعالمی ماحولیاتی بحران ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
گوٹیرس نے یہ بات اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ماحولیات سے متعلق سربراہ اجلاس سے قبل اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ واضح رہے کہ اس کانفرنس میں دنیا کے 196 ممالک شریک ہو رہے ہیں۔ گوٹیرس کا کہنا تھا کہ “انسان کئی دہائیوں سے کرہ ارض پر فطرت کے خلاف حالت جنگ میں ہے اور اب اس سیارے (زمین) نے انسان کے خلاف لڑائی کا آغاز کر دیا ہے”۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بڑے اقتصادی ممالک کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج پر پابندی لگانے کے حوالے سےکی جانے والی “ناکافی” کوششوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں عالمی ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے اور اس حوالے سے ہناقابل تلافی نقصان زیادہ دور نہیں بلکہ یہ ہمارے سامنے ہے اور تیزی سے ہماری جانب بڑھ رہا ہے”۔
گوٹیرس نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ پر بھی روشنی ڈالی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے پانچ سال درجہ حرارت کے لحاظ سے دنیا کی تاریخ کے گرم ترین سال تھے۔ ماحولیات سے متعلق سنگین بحرانات پہلے سے کہیں زیادہ تکرار کے حامل، مہلک اور تباہ کن ہو چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ انسانی صحت اور غذائی امن خطرے سے دوچار ہیں اور فضائی آلودگی سالانہ 70 لاکھ افراد کی موت کا سبب بن رہی ہے۔ماحولیات کے لیے نقصان دہ مواد کے اخراج کا سبب بننے والے ممالک نے قریب مدت میں اپنی ذمہ داریوں میں اضافے کے حوالے سے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ان ممالک میں برکس کے ممبر ممالک چین، بھارت، روس اور برازیل نمایاں ترین ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے مطابق رواں برس کے اختتام تک ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی سامنے آ جائے گی۔ جبکہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق حالیہ میڈرڈ کانفرنس میں امریکی ایوان نمائندگان کی خاتون اسپیکر نینسی پلوسی کانگرس کے وفد کی قیادت کر رہی یں۔
اسپین کے وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ “ہم امریکہ کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے انسداد کے قوانین کا پابند رہے”۔
