غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فرانسیسی مصنوعات پر واشنگٹن کی طرف سے 100 فیصد یعنی 2.4 ارب ڈالر مالیت کا ٹیکس عائد کیا جائےگا۔
واضح رہے کہ امریکہ کی چین کے ساتھ بھی تجارتی معاملات پر کشیدگی چل رہی ہے۔ متعدد بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی مصنوعات پر ٹیکس لگا چکے ہیں جس کے جواب میں چینی صدر شی جن پنگ نے بھی بدلے میں بڑے پیمانے پر ٹیکس لگائے۔ اس دوران کشیدگی میں بھی کمی آئی تاہم اس کے اثرات مسلسل چل رہے ہیں۔ اس کشیدگی کے بعد اب امریکہ کی کشیدگی فرانس کے ساتھ بھی بڑھنے لگی ہے۔
تجارتی کشیدگی کے بعد فرانسیسی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانے کے بعد فرانسیسی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ اضافی ٹیکس لگایا گیا تو یورپی یونین ایک ہو کر امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرے گی۔
یاد رہے کہ حکومت فرانس نے امریکی کمپنیوں گوگل، فیس بک اور ایمیزون پر تین فیصد ڈیجیٹل ٹیکس عائد کیا تھا۔ نئے ٹیکس کا مقصد غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔ فرانس نے 75 کروڑ پاؤنڈز سے زیادہ کمانے والی ان ڈیجیٹل کمپنیوں پر ٹیکس لگایا جو اڑھائی کروڑ پاؤنڈز فرانس سے کماتی ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل میکرون کے نیٹو سے متعلق بیان کو توہین آمیز قراردیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر کا نیٹو سے متعلق نامناسب بیان 28 ممالک کے لئے بہت برا بیان تھا حالانکہ نیٹو اتحاد میں خود فرانس کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ فرانس میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔
