مغربی دفاعی اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے سربراہ اسٹولٹن برگ نے لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کے مضمرات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ہم چین کو اپنا مخالف نہیں بنانا چاہتے لیکن ہمیں چین کی بڑھتی قوت سے نمٹنا ہوگا۔
اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کے میزائل جو کہ یورپ اورامریکہ کو نشانہ بنانے کی طاقت رکھتے ہیں اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ نیٹو اتحادیوں کو اس مسئلےکوحل کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت تمام اتحادی ممالک کے لیے دفاعی مضمرات رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کا دنیا میں دوسرا بڑا دفاعی بجٹ اور اس کی حالیہ دفاعی ترقی خصوصاً میزائل یورپ اور امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔چین نے جنوبی بحیرہ چین کے متنازع جزائر میں متعدد ممالک کے احتجاج کے باجود وہاں اپنے جہاز بھیج کر عسکری قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ نیٹو اتحاد کی دفاعی پہنچ یورپ اور شمالی امریکہ تک محدود ہے جب کہ چین کا عمل دخل یورپ اورشمالی امریکہ کے کناروں تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات نیٹو کے جنوبی بحیرہ چین میں جانے کی نہیں بلکہ یہ سمجھنے کی ہے کہ چین آرکٹک اور افریقہ میں ہمارے قریب آرہا ہے جب کہ یورپ میں بھی بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے۔
انہوں نے اپنے نقطہء نظر کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ نیٹو کی نئی سوچ ایک نیا حریف پیدا کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ ہم چین کے نئے چیلنج کو سمجھنا اوراسکا تجزیہ کرنے کے بعد توازن میں رہتے ہوئے اس کا جواب دینا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ نیٹو اتحاد کے 29 ممالک کی دو روزہ کانفرنس لندن میں ہورہی ہے جس میں ممبر ممالک چین کی پالیسیوں سے نمٹنے کے حوالے سے لائحہ عمل پر غور کررہے ہیں۔
