امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے 5 سے 7 ہزار اضافی فوجی مشرق وسطی بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن ان اضافی فوجیوں کو کب اور کہاں تعینات کیا جائے گا یہ ابھی واضح نہیں ۔ ایک امریکی ذمے دار نے جمعرات کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے والی ایک جماعت کے حملوں کے جواب میں کیا جائے گا جس نے حالیہ مہینوں کے دوران امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تھا۔
کانگرس کے ایک اجلاس میں نائب وزیر دفاع جون روڈ کا کہنا تھا کہ “امریکہ کو ایران کے رویے پر تشویش ہے۔ ہم خطرے کی شدت کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی موجودگی کو تیزی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں”۔
تاہم جون روڈ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں 14 ہزار اضافی امریکی فوجیوں کے تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح پینٹاگان کی ترجمان الیسا فرح نے بھی ٹویٹر پر اس تعداد کو مسترد کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ بالخصوص ایران کے جوہری معاہدے سے واشنگٹن کی یک طرفہ علیحدگی اور ایران پر ایک بار پھر سے شدید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد گذشتہ چند ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں کئی ایسے حادثات اور واقعات پیش آئے جن کو واشنگٹن نے ایران کے ساتھ منسوب کیا۔
خیال رہے کہ یکم اکتوبر کو امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایران کے “شرپسند موقف”کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور عالمی معیشت میں تعطل کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔
