امریکی پارلیمنٹ کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے اختیارات کا غلط استعمال کیا ۔ انکا مواخذہ ضرور ہوگا اور اس ضمن میں دستاویز تیار کی جائیں گی۔ انہوں نے پارلیمانی قانونی کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں تمام دستاویز اور قرائن کا جائزہ لے کر مواخذے کے نکات تحریر کرے۔ نینسی پیلوسی نے زور دے کرکہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے بلکہ ان کا غلط استعمال بھی کیا۔
توقع ہے کہ جلد ہی کمیٹی اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مواخذے کی روداد اور نکات تحریر کرے گی اور اسے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں تمام اراکین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اگراس رپورٹ کو سادہ اکثریت مل جاتی ہے تو صدر ٹرمپ کے براہِ راست مواخذے کا آغاز ہوجائے گا یہاں تک کہ صدر ٹرمپ کو مواخذے کے بعد ان کے عہدے سے ہٹایا بھی جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ صدرٹرمپ پر ایک جانب تو یوکرائن پر دباؤ ڈالنے اور عسکری مدد روک کر ذاتی فوائد اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا الزام ہے۔ اس سلسلے میں مواخذے کی روداد میں صدر ٹرمپ کے ساتھیوں اور حکومتی اہلکاروں سے طویل جرح بھی کی گئی تھی۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ بائیں بازو کے ڈیمو کریٹس نے اعلان کیا ہے کہ وہ میرا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں جس میں ’ میں نے کچھ نہیں کیا‘ ۔ صدرٹرمپ نے کہا کہ مواخذے کی یہ روش مستقبل کے صدور پر حملے کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں ںے کہا کہ ہم متحد ہیں اور جیت ہماری ہوگی۔
