بھارتی لوک سبھا (ایوان زیریں) میں متنازع شہریت بل کی منظوری کے بعد راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں بھی اسے منظور کرلیا گیا ہے اور صدر کے دستخط کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔
بل کے تحت 2015 سے قبل پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، جین، سکھ ، بدھ، مسیحی اور پارسی غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دی جاسکے گی جب کہ ان ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو یہ سہولت نہیں دی جائےگی۔
معتصبانہ ، متنازع شہریت بل کے خلاف بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں بھی احتجا ج کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاست تریپورہ میں احتجاج میں شدت آنے پر موبائل انٹرنیٹ اور میسج سروس 48 گھنٹوں کے لیے بند کردی گئی جب کہ آسام کے شہر گوہاٹی میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
