Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملہ کس نے کیا تھا؟ اقوام متحدہ ایران کو ملزم ٹھہرانے سےانکاری

اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی ششماہی رپورٹ پیش کی ہے۔ سیکریٹری جنرل کہا ہے کہ عالمی ادارہ ستمبر میں سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے میں ایران کے ملوّث ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتا۔

انھوں نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کو آرامکو کی تنصیبات پر حملوں میں استعمال کیے گئے ہتھیاروں کے ملبے تک رسائی دی گئی تھی لیکن تحقیقات سے ابھی یہ پتا نہیں چل سکا ہے کہ حملے میں استعمال کیے گئے کروز میزائل اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے ایران ساختہ تھے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ان کی تکمیل کے بعد رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردی جائے گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور امریکہ نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا۔اور کہا تھا کہ 14 ستمبر کو سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر حملوں کے لیے ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ جس کے نتیجے میں آرامکو کی خام تیل کی پیداوار میں نصف (قریباً اٹھاون لاکھ بیرل یومیہ) تک کمی واقع ہوگئی تھی۔

اس حملے سے دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے پراسیسنگ پلانٹ کو نقصان پہنچا تھا مگر سعودی آرامکو نے ایک ہفتے میں اپنی پیداوار مکمل طور پربحال کر لی تھی۔امریکی انٹیلی جنس کے مطابق سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایران سے حملہ کیا گیا تھا۔ایران نے بقیق اور ہجرۃ خریص میں واقع تیل تنصیبات پرحملوں کے لیے قریباً ایک درجن کروز میزائل داغے تھے اور بیس سے زیادہ ڈرونز چھوڑے تھے۔ان کے ٹکرانے سے ان دونوں تنصیبات میں آگ لگ گئی تھی۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا تھا کہ اس حملے میں ایرانی ساختہ ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے اس حملے کے چار روز بعد 18 ستمبر کو ایک نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملوں کا اسپانسر ایران تھا مگر یہ حملے یمن سے نہیں کیے گئے تھے جبکہ ایران نے ایسا ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

ترجمان نے سعودی آرامکو کی اہم تنصیب بقیق پر حملے کو عالمی معیشت پر حملہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تیل تنصیبات پر حملوں کے لیے پچیس ڈرونز اور کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے اورڈرون شمال سے جنوب کی سمت آئے تھے جبکہ یمن سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے اور اس کی سرحد سے متصل یمن کا شمالی صوبہ صعدہ حوثی باغیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

three × 5 =

Contact Us