اسرائیلی ٹی وی چینلز کے مطابق بدھ کے روز غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں نے ایک میزائل حملہ کیا جو غزہ کی سرحد کی دوسری جانب عسقلان شہر میں گرا ہے۔ یہ میزائل اس وقت داغا گیا جب وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پارٹی انتخابات کے لیے عسقلان میں ایک جلسے سے خطاب کے لیے موجود تھے۔ فلسطینیوں کے میزائل حملے کے باعث نیتن یاھو بھی محفوظ مقام پرپناہ لینے پرمجبور ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے متعدد اہداف پر بمباری کی۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی سے 12 کلومیٹر دور عسقلان پر میزائل فائر کیا گیا تھا تاہم آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام نے یہ میزائل گرایا تھا۔ اسرائیلی محمکہ دفاع کے ایک بیان کے مطابق راکٹ کو اسرائیل کے دفاعی نظام ’آئرن ڈوم ایئر ڈیفینس سسٹم‘ نے ناکارہ بنا دیا۔ اس سے متعلق ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سائرن کے سبب ریلی میں خلل پڑنے کے بعد اسرائیلی وزيراعظم، ان کی اہلیہ سارہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو اسٹیج سے نیچے اتارا جا رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق ریلی سے نکالنے کے بعد ان سب کو محفوظ مقام پر لے جایا گيا اور جب خطرہ ٹل گیا تو نیتن یاہو نے واپس آکر اپنے خطاب کو مکمل کیا۔
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی کا علاقہ اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ کے زیرانتظام ہے۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس میزائل حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
