محققین کے مطابق دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو رواں برس امریکہ میں اندھا دھند فائرنگ اور قتل عام کے نتیجے میں شہریوں کے قتل کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکی تاریخ کے موجودہ دورمیں 2019ء کا سال قتل عام اور فائرنگ کے واقعات کے حوالے سے بدترین سال رہا۔ اس سال مجموعی طور پر قتل عام کے 41 واقعات رونما ہوئے، جن میں دو سو گیارہ افراد مارے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ان میں 33 واقعات میں آتشیں اسلحے کا استعمال ہوا۔ رواں برس قتل عام کے واقعات میں اضافہ تو ہوا، تاہم ان واقعات میں ہونے والی ہلاکتیں سن 2017 کے مقابلے میں کم رہیں۔ سن 2017ء میں مجموعی طور پر 224افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سال 2019 میں پیش آئے سب سے ہلاکت خیز واقعے میں ایل پاسو میں اگست کے مہینے میں 22 افراد کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس سے قبل مئی میں ورجینیا بیچ پر 12 افراد قتل ہوئے۔محققین کے مطابق سنہ 2019 کے کُل 41 کیسز میں سے 33 میں آتشیں اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ اعداد و شمار میں ریاست کیلیفورنیا سرِفہرست رہی جس میں قتلِ عام کے آٹھ واقعات پیش آئے۔
