العریبیہ نیوز کے مطابق سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز نے امریکہ کی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنی رے تھیون کے ساتھ شراکت داری کےایک سمجھوتے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی سعودی عرب ہی میں مرمت اور تجدید کی جائے گی۔
یہ سمجھوتہ سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے مقاصد واہداف کے عین مطابق ہے۔اس ویژن کے تحت سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنایا جارہا ہے اور تیل کی دولت پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی سطح پرمختلف صنعتوں کو ترقی و فروغ دیا جارہا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد عسکری اور سکیورٹی کے شعبے میں مقامی صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور تعلیم یافتہ مقامی اہل افراد کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔نیز اس ویژن کے تحت آیندہ ایک عشرے کے دوران میں نصف تک فوجی سازوسامان مملکت ہی میں تیار کیا جائے گا اور ان کی درآمدات پر اٹھنے والے زرمبادلہ کی بچت کی جائے گی۔
یادرہے کہ نومبر 2018ء میں سعودی اور امریکی حکام نے ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) لانچروں ، میزائلوں اور متعلقہ آلات کی خریدوفروخت سے متعلق ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔جولائی 2019ء میں امریکہ کی ایک اسلحہ ساز فرم لاک ہیڈ مارٹن کو سعودی عرب کے لیے ایک ارب 48 کروڑ ڈالر مالیت کا تھاڈ میزائل دفاعی نظام تیار کرکے دینے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔رے تھیون اس نظام کا جدید راڈار تیار کرے گی۔تھاڈ میزائل نظام کو مختصر ، درمیانے اور وسطی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
