ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر حسین دہقان نے امریکی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکہ کو عسکری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے کا ردعمل بھی عسکری ہوگا اور امریکی تنصیباب نشانہ بنیں گی۔ حسین دہقان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ کبھی چاہتے تھے۔ جنگ کا آغاز امریکہ نے کیا ہے، اس لیے وہ ردعمل کے لیے بھی تیار رہے۔
حسین دہقان نے کہا کہ حالات کو معمول پر لانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ امریکہ کو پوری شدت سے جواب دیا جائے۔ ٹرمپ کو عالمی قوانین کا پتا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کے چارٹر کی کوئی فکر، دراصل امریکی صدر ایک جوئے باز گینسگٹر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نہ سیاستدان ہے اور نہ ہی اس کا دماغی توازن ٹھیک ہے۔ اگر ٹرمپ نے ثقافتی مراکز کو نشانہ بنایا تو اس کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ ہوگا۔ اگر ٹرمپ نے وہی کیا جو وہ کہہ رہے ہیں تو کوئی امریکی فوجی اور نہ ہی فوجی تنصیبات محفوظ رہیں گے۔
ایران کے آرمی چیف نے بھی ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں ایران کے ساتھ لڑنے کی جرات نہیں ہے۔
دوسری طرف ایران کے ساتھ جنگ کے خطرے کے پیش نظر امریکہ کے ستر سے زائد شہروں میں مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ملک کو ایک اور تباہ کن جنگ میں دھکیلنے نہیں دیں گے۔ ایرانی کمانڈر کو مار کر امریکہ نے غلط اقدام اٹھایا۔
مظاہرین نے امریکی صدر کے ذاتی ہوٹل ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل کے باہر بھی احتجاج کیا جبکہ نیویارک میں ٹائم سکوائر پر بھی مظاہرہ ہوا۔
