عراق کے نگران وزیراعظم عادل عبد المہدی نے ایران کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ’سیاسی قتل‘ قرار دے دیا۔ عادل عبد المہدی کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل قاسم سلیمانی ایران اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے
انہوں نے کہا کہ میجر جنرل قاسم سلیمانی قتل کیے جانے والے روز ایران کا سعودی عرب کے لیے پیغام لے کر بغداد پہنچے تھے جہاں بغداد کے ذریعے ایران کو بھیجے گئے سعودی پیغام میں خطے اور دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی کمی کے لیے تجاویز تھیں اور اسی سلسلے میں جنرل سلیمانی سے حملے والے روز ملاقات طے تھی تاکہ وہ سعودی پیغام پر ایران کا تحریری جواب پیش کریں۔
امریکی حملے کے خلاف گزشتہ روز عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا جس میں امریکی فوج کے عراق سے انخلاء کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ اسی اجلاس سے خطاب میں نگران عراقی وزیراعظم عادل المہدی نے اہم انکشاف کیا کہ قاسم سلیمانی کا قتل ایک ’سیاسی قتل‘ہے
واضح رہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد کے ائیرپورٹ کے باہر امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراقی ملیشیا کےکمانڈر ابو مہدی ال مہندس اور دیگر نو لوگ بھی ہلاک ہوئے تھے۔
