مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد امریکہ نے اقوامِ متحدہ کولکھا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ’سنجیدہ اورغیر مشروط مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔یہ خط اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے لکھا گیا ۔
یاد رہے کہ تین جنوری کو بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور جواب میں چھ جنوری کی رات ایران کی جانب سے عراق میں دو امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔
ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے ایران کی جانب سے کی گئی جوابی کارروائی کے بارے میں کہا کہ یہ ‘امریکہ کے منھ پر طمانچہ’ ہے اور قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ امریکہ کی خطے میں موجودگی کے خاتمے کے سوا کچھ نہیں۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے ‘جس کا مقصد ہے کہ بین الاقوامی امن و امان کو مزید نقصان نہ ہو اور ایرانی حکومت مزید جارحیت اختیار نہ کرے۔’
امریکہ نے نکتہ پیش کیا کہ اقوام متحدہ کی شق 51 کے تحت جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کرنا درست فیصلہ تھا۔ امریکہ نے مزید کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے ‘ضرورت کے تحت مزید اقدام’ اٹھائیں گے۔ واضح رہے کہ شق 51 کے مطابق حملہ آور ملک پر لازم ہے کہ وہ سلامتی کونسل کو فوری طور پر خبر دے کہ انھوں نے اپنے دفاع میں یہ قدم اٹھایا ہے۔
