امریکہ کے ہاتھوں قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کی جانب سے کی جانے والی جوابی کاروئی میں ایران نے عراق میں دو فوجی اڈوں پرحملہ کیا۔ امریکہ نے اس ایرانی حملے کے بعد ایرانی سیکیورٹی اداروں سے وابستہ کئی شخصیات پر اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ واشنگٹن کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں کا مقصد ایران کو مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سے روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عاید کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا یہاں تک کہ ایران خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سے باز آجائے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر ایران امریکی اہداف پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ نے بھی ایران میں اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رکھی ہے۔ ہم بھی ایران کے مخصوص اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
پومپیو نے واضح کیا کہ ایران کو اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور حزب اللہ اور دیگر ملیشیاؤں کی مالی اعانت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو اس لیے ہلاک کیا گیا کیونکہ وہ امریکی مفادات پر عنقریب حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ
کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد دنیا مزید محفوظ ہوئی ہے۔ ان کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی فتح ہے۔
اس موقع پرامریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پابندیوں کی فہرست میں مزید ایرانی شخصیات کو شامل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ لہٰذا واشنگٹن لوہے کی صنعت میں کام کرنے والی ایرانی کمپنیوں کے خلاف 17 قسم کی پابندیاں عائد کرے گا۔
