ایران کی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ’غیر ارادی طور پر‘ یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرایا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں ایرانی فوج نےکہا ہےکہ ’یہ ایک انسانی غلطی کی بنا پر اس وقت ہوا جب طیارے نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک حساس مقام کے قریب پرواز کی۔ البتہ اس حادثے میں ملوث افراد کا احتساب کیا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ یوکرین کی بین الاقوامی فضائی کمپنی کی پرواز پی ایس 752 بدھ کو ایران کے دارالحکومت تہران سے پرواز کے چند ہی منٹ بعد گِر کر تباہ ہو گئی تھی۔ اس حادثے میں طیارے پر سوار مسافروں اور عملے کے اراکین سمیت تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ طیارہ تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیف جا رہا تھا اور پرواز کے محض آٹھ منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس کے گرنے کی اطلاعات اسی دوران آئی تھیں جب ایران جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد جوابی کارروائی میں عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کر رہا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ’یہ ایک افسوس ناک دن ہے۔ افواج کی اندرونی تحقیقات کے مطابق امریکی جنگی جنون کی وجہ سے اس بحران کے موقع پر یہ انسانی غلطی پیش آئی ہے۔ ہم تمام ممالک کے متاثرین اور ان کے خاندانوں سے معذرت خواہ ہیں اور ان سے تعزیت کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں متعدد ذرائع سے ملنے والی معلومات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ طیارہ ایران کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا نشانہ بنا۔ جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ یہ عمل ’غیرارادی طور پر ہوا ہو‘۔
تاہم ایرانی فوج کی جانب سےمسافر طیارہ مار گرائے جانے پر معافی مانگتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو جدید بنائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسی ’غلطیوں‘ سے بچا جا سکے۔ ‘ ‘
