Friday, August 14
Shadow

برطانوی سفارت کار کی اسیری اور رہائی، ایران کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا

برطانوی سفیرروب میکیئر کی گرفتاری پر ایران کو شدید عالمی ردعمل کا سامنا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق برطانوی سفارت کار مظاہرین کوہلڑبازی پر اکسا رہے تھےجس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا لیکن حقیقت معلوم ہونے پر چھوڑ دیا گیا۔

واضح رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران پے در پے مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے یوکرائن کا جہاز گرانے کی ذمہ داری قبول کرکے عالمی ردعمل کا سامنا کیا اور اگلے ہی دن مظاہرین کی تصاویر بنانے پر برطانوی سفیر کو حراست میں لے کر سفارتی جنگ چھیڑ دی۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ برطانوی سفیر نے تہران میں یونیورسٹی کے باہر پہنچ کر عوام کو ریاست مخالف احتجاج کے لئے اکسایا جبکہ ان کی ویڈیو اور تصاویر بھی بناتے رہے۔سیکورٹی فورسز نے سفارتی آداب اور ایران کی قومی سلامتی کے خلاف عمل کرنے پر سفیر کوحراست میں لے کر وزارت خارجہ کے حوالے کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی سفیر کو غیر ملکی سمجھ کر پکڑا گیا تاہم بعد میں جب ان کی اصل شناخت معلوم ہوئی تو پندرہ منٹ میں رہا کر دیا۔

رہائی کے بعد برطانوی سفیر روب میکیئر نے ایرانی دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مظاہرے میں شریک نہیں ہوئے بلکہ حادثے میں مرنے والوں کی یاد میں شمع روشن کرنے گئے تھے۔

دوسری جانب برٹش میڈیا کا کہنا ہے کہ انہیں تین گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔ برطانیہ نے ایرانی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کسی وجہ کے بغیر برطانوی سفیر کو حراست میں لے کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران ایسے دوراہے پر ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ کہیں پوری عالمی برادری اس کا بائیکاٹ نہ کر دے۔یورپی یونین نے بھی سفیر کی گرفتاری کو ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔

ایرانی عوام بھی ایرانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ ایران مسافر طیارہ مار گرانے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply