ایرانی صدر حسن روحانی نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود غیر ملکی افواج کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ خطے میں موجود رہیں تو انھیں خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے بیرونی طاقتوں کو مخاطب کیا کہ وہ اپنی افواج مشرقِ وسطیٰ سے نکال لیں، وہ خبر کردار کرتے ہیں کہ اگر افواج خطے میں رہیں تو وہ خطرے میں آسکتی ہیں۔انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج امریکی فوج خطرے میں ہے، کل یورپی افواج بھی خطرے میں ہوسکتی ہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کے ساتھ مذاکرات مشکل ہونےکے باوجود اب بھی ممکن ہیں، حکومت جنگ یا محاذ آرائی سے بچنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کام کررہی ہے۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے امریکی صدر کو بہترین ڈیل میکر قرار دیا تھا اور ایرانی نیوکلیئر ڈیل کو ٹرمپ ڈیل سے تبدیل کرنے کا کہا تھا۔روحانی نے جامع مشترکہ پلان کے متبادل کے طور پر ’ٹرمپ پلان‘ کی پیشکش کو بھی مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر پر وعدہ خلافی کرنے کا بھی الزام لگایا۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکہ نے بغداد میں میزائل حملہ کرکے ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا تھاجس کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران امریکہ کشیدگی کے دوران 8 جنوری کو یوکرین کا مسافر طیارہ ایران میں میزائل لگنے سے گر کر تباہ ہوا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے۔ بعد میں طیارے کی تباہی کو ایران کی طرف سے انسانی غلطی کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا
