اقوام متحدہ نے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے کو تباہ حال اورجنگ زدہ ملک میں دیرپا امن قائم کرنے کی طرف اہم قدم قرار دیتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن کی بحالی اورتشدد کے مستقل خاتمے کے لیے کام کریں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے افغانستان میں تشدد میں بتدریج اورمسلسل کمی لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے متحارب فریقین کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کے عزم کا خیر مقدم کیا۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بات چیت امن کی کوششوں کے لیے ضروری ہے۔ اقوام متحدہ افغان دھڑوں میں مذاکرات کے لیے فریقین کے ظاہر کردہ عزم کا خیر مقدم کرتا ہے۔اور افغانستان کی سربراہی میں ایک جامع عمل کی حمایت کا اظہار اور جنگ کے خاتمے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیتا ہے۔
اس سے قبل فروری میں افغان حکومت نے کابل اور باغیوں کے مابین پہلے باضابطہ مذاکرات کو آسان بنانے کے لیے سات دن تک طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا تھا۔تشدد پر قابو پانے کی مدت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی اور اس کے بعد امریکہ اور طالبان نےکل 29 فروری کو قطر کے شہر دوحہ میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے۔
