Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

اسرائیل: نیتن یاہو حکومت سے باہر،گینٹس حکومت سازی کے لیے مدعو

اسرائیلی صدر ریوین ریولین , سابق فوجی سربراہ اور بیلو اینڈ وائٹ پارٹی کے رہنما بینی گینٹس کو نئی حکومت بنانے کے لیے باضابطہ دعوت دیں گے ۔ اس پیش رفت کو موجودہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے لیے بڑا دھچکا قرا ردیا جارہا ہے۔

سیاسی عدم استحکام سے دوچار اسرائیل میں ایک برس سے کم عرصے میں حکومت سازی کی یہ تیسری کوشش ہے جہاں اس وقت کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے ایک ‘ایمرجنسی‘ حکومت کی مانگ خاصی زور پکڑ گئی ہے۔اسرائیلی صدر ریولین کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر،کچول لاوان (بلیو اینڈ وائٹ پارٹی) کے سربراہ بینی گینٹس کو حکومت سازی کی ذمہ داری سونپیں گے۔”

واضح رہے کہ اسرائیلی صدر نے بینی گینٹس کو حکومت سازی کے لیے مدعو کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب متعدد اراکین پارلیمان نے انہیں بینجمن نیتن یاہو کے حریف بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے سربراہ کی حمایت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسرائیلی صدر ریولین نے اپنے فیصلے کا اعلان اتوار کے روز اسرائیلی پارلیمان میں نمائندگی کرنے والی تمام موجودہ سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے اور اس کے بعد وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کے بعد کیا۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں گذشتہ دومارچ کو ایک برس کے اندر تیسری مرتبہ عام انتخابات کرائے جانے کے باوجود کسی بھی پارٹی یا اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیلی صدر کے انتخاب کا کام کافی مشکل ہوگیا تھا۔ گوکہ بینجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی حالیہ انتخابات میں 48 سیٹیں حاصل کرکے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن اتوار کے روز دیگر پارٹیوں کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعدیہ بات واضح ہوگئی کہ وہ حکومت سازی کے لیے ضروری 120رکنی اسرائیلی پارلیمان میں کم از کم 61 ممبران پارلیمنٹ کی حمایت سے تین سیٹیوں سے پیچھے رہ گئی ہے۔ دوسری طرف گینٹس کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی دیگر چھوٹی جماعتوں کی حمایت سے 61 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ گینٹس سے حکومت سازی کے لیے صدر ریولین کی درخواست اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ ایک مستحکم حکومت قائم کرنے میں کامیاب بھی ہوجائیں گے، کیونکہ اپوزیشن جماعتوں میں بھی آپس میں کئی امور پر شدید اختلافات رکھتی ہیں۔ گینٹس کی حمایت کرنے والوں میں عرب نواز جماعت کے علاوہ انتہائی قوم پرست اسرائیلی جماعت بیتینو شامل ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی صدر کی طرف سے گینٹس کو حکومت سازی کے لیے باضابطہ مدعو کیے جانے کے بعد انہیں ایک ماہ کے اندراپنی حکومت تشکیل دینی ہوگی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

sixteen + 7 =

Contact Us