Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

امریکہ “عراقی حزب اللہ بریگیڈز” کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے: نیویارک ٹائمز

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع نے عسکری قیادت کو حکم دیا ہے کہ وہ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے مجموعے کو تباہ کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیاجائے کیوںکہ ان ملیشیاؤں نے عراق میں امریکی افواج کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔ یہ پیش رفت بغداد میں امریکی مفادات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر روبرٹ اوبرائن سمیت بعض سینئر عہدے داران ایران اور اس کی فورسز کے خلاف نئے سخت اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان شخصیات کا کہنا ہے کہ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کو ختم کر ڈالنے کا موقع ہے کیوں کہ کرونا کی وبا کے سبب ایرانی قیادت انتشار کا شکار ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی سمیت کئی سینئر عہدے داران عراقی سیکورٹی فورسز پر زور دے چکے ہیں کہ وہ امریکی فوج کے خلاف حملے کرنے والی شیعہ ملیشیاؤں کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ بصورت دیگر امریکہ خود جوابی کارروائی پر مجبور ہو جائے گا۔ایک اخباری انٹرویو میں ایسپر کا کہنا تھا کہ “آپ امریکی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کر کے بھاگ نہیں سکتے . ہم اپنے طور پر منتخب کردہ وقت، جگہ اور طریقے سے جواب دیں گے۔ ہم ان کا کڑا احتساب کریں گے”۔

یاد رہے کہ رواں ماہ عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی جانب سے ایک عراقی فوجی اڈے پر راکٹ حملوں میں دو امریکی اور ایک برطانوی فوجی مارا گیا تھا۔ اس کے اگلے روز امریکی لڑاکا طیاروں نے جوابی انتقامی کارروائی کی۔تاہم 12 مارچ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران وزیر دفاع مارک ایسپر اور چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے اس حوالے سے دباؤ ڈالا کہ راکٹ حملوں پر زیادہ محدود سطح پر جوابی کارروائی کی جائے۔ صدر ٹرمپ نے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ عراق میں حزب اللہ بریگیڈز کے زیر استعمال ہتھیاروں کے پانچ گوداموں پر رات کے وقت فضائی حملے کیے جائیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق غالبا عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے خلاف پینٹاگان کی مہم میں براہ راست ہدف ملیشیا کی قیادت، اس کے مراکز اور ہتھیاروں کے گودام ہوں گے۔ ان کے علاوہ ملیشیا کے پاس موجود میزائلوں کا وسیع ذخیرہ بھی نشانے پر ہو گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ملیشیا کم فاصلے والے بیلسٹک میزائلوں کے اُس خفیہ اسلحے خانے تک رسائی کی قدرت رکھتی ہے جو گذشتہ چند ماہ کے دران ایران نے عراق کے حوالے کیے۔ یہ بات امریکی انٹیلی جنس اور فوج کے ذمے داران نے بتائی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

13 − ten =

Contact Us