Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

Tag: نواز شریف، عمران خان، شاہ محمود قریشی، پاکستان، تجربہ، ہندوستان، کرکٹ اور سیاست، جس کا کام اسی کو ساجھے،

خارجہ پالیسی کا المیہ

خارجہ پالیسی کا المیہ

معاون مواد/مہمان تحریریں
مہمان تحریر - سلیم صافی جس طرح کرکٹ اور سیاست الگ الگ میدان ہیں بعینہ سیاست اور گورننس بھی الگ الگ چیزیں ہیں ۔ جس طرح کرکٹ، پریکٹس اور تجربے کے بغیر سیکھی نہیں جاسکتی ، اسی طرح سیاست بھی اس میدان میں دھکے کھائے بغیر نہیں سیکھی جاسکتی اور بعینہ گورننس اور حکمرانی کے فن پر بھی عبور تجربے کے بعد ہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ بلاشبہ عمران خان باکمال کرکٹر تھے اور انہوں نے بیس بائیس سال سیاست بھی کی لیکن حکمرانی کا انہیں کوئی تجربہ نہیں تھا کیونکہ سیاست اور گورننس الگ الگ میدان ہیں۔ اس کمی کو وہ تجربہ کار ٹیم سے پورا کرسکتے تھے لیکن انہوں نے اپنے گرد ایسے وزیروں اور مشیروں کو جمع کیا جو ان کی طرح بولنے میں تو افلاطون ہیں لیکن ظاہر ہے سب اتفاقی ممبران پارلیمنٹ یا وزیر مشیر بنے ہیں اور اس سے پہلے کسی کو صوبائی وزارت کا بھی تجربہ نہیں تھا۔کئی ایک توبیرون ملک سے مختصر عرصے کے لئے پاکستان کے دو...

Contact Us