Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

امریکی سینٹ کی قرارداد نےترک امریکہ تعلقات خطرے میں ڈال دیے ۔ انقرہ

ترکی نے امریکی سینٹ کی طرف سے جمعرات کے روز آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق ایک بل کی منظوری پر سخت رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔

ترکی کے ایوان صدر کے ڈائریکٹراطلاعات فخرالدین الٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان کے رویے کے باعث ترک – امریکہ تعلقات کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے پر ووٹ ڈالنے والے سیاستدانوں کو تاریخ میں ان عہدیداروں کے طور پر یاد رکھاجائے گا جنہوں نے ترکی اور امریکہ کے مابین تعلقات کو خطرات سے دوچار کیا۔

واضح رہے کہ تقریباً 30 ممالک آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سلطنت عثمانیہ کی افواج نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیا میں 12 سے 15 لاکھ کے درمیان افراد کو قتل کردیا تھا۔ اس وقت آرمینیا جرمنی اورہنگری کا اتحادی تھا۔ جبکہ ترکی ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

19 − 14 =

Contact Us