ترکی نے امریکی سینٹ کی طرف سے جمعرات کے روز آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق ایک بل کی منظوری پر سخت رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔
ترکی کے ایوان صدر کے ڈائریکٹراطلاعات فخرالدین الٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان کے رویے کے باعث ترک – امریکہ تعلقات کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے پر ووٹ ڈالنے والے سیاستدانوں کو تاریخ میں ان عہدیداروں کے طور پر یاد رکھاجائے گا جنہوں نے ترکی اور امریکہ کے مابین تعلقات کو خطرات سے دوچار کیا۔
واضح رہے کہ تقریباً 30 ممالک آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سلطنت عثمانیہ کی افواج نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیا میں 12 سے 15 لاکھ کے درمیان افراد کو قتل کردیا تھا۔ اس وقت آرمینیا جرمنی اورہنگری کا اتحادی تھا۔ جبکہ ترکی ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
