Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

جرمنی میں نسل پرستانہ حملوں پر کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں، میرکل

جرمن چانسلر اینجلا میرکل نے کہا ہے کہ جرمنی میں ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو محفوظ محسوس کرے۔ ان کا یہ بیان حالیہ شدت پسندانہ حملوں کے بعد نسل پرستی سے نمٹنے کے لیے کابینہ کے اراکین اور تارکین وطن کے گروپوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر سامنے آیا ۔

انجیلا میرکل نے پیر کے روز بات کرتے ہوئے کہا کہ نسل پرستی، اسلامو فوبیا اور سامیت مخالفت کے خلاف جرمنی کی کوششیں حکومت کے لیے ‘انتہائی اہم معاملات‘ ہیں۔ ۔ حالیہ شدت پسندانہ حملوں کے تناظر میں ہونے والی اس ملاقات کا مقصد شہریوں کو دائیں بازو کی شدت پسندی سے محفوظ رکھنے کے طریقوں پر غور کرنا تھا۔

جرمن چانسلر کے مطابق ان کی حکومت گذششتہ برس جرمن شہر ہالے میں ایک شخص کے یہودیوں کی عبادت گاہ پرمسلح حملے کے بعد سےشدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر چکی ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ جرمنی میں ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے رنگ یا مذہب سے قطع نظر خود کو محفوظ سمجھیں

واضح رہے کہ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے ہفتہ 29 فروری کو ‘اسلامو فوبیا کے معاملے پر ماہرین کا ایک خودمختار گروپ‘ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جو اس وقت موجود وزارتی پینلز کی طرز پر ہوگا جو سامیت مخالفت یا یورپی خانہ بدوش اقوام کی مخالفت سے نمٹنے کے لیے قائم ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

18 − two =

Contact Us